سیرت النبی کریم ﷺ ۔۔۔ قسط: 81 - رسول اللہ ﷺ کے مکان کا گھیراؤ


جب دارالندوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کی مجرمانہ قرار داد طے ہوچکی تو حضرت جبریل علیہ السلام اپنے رب تبارک وتعالیٰ کی وحی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو قریش کی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہاں سے روانگی کی اجازت دے دی ہے اور یہ کہتے ہوئے ہجرت کے وقت کی تَعِیین بھی فرمادی کہ آپ یہ رات اپنے اس بستر پر نہ گزاریں جس پر اب تک گزارا کرتے تھے۔

اس اطلاع کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھیک دوپہر کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے تاکہ ان کے ساتھ ہجرت کے سارے پروگرام اور مرحلے طے فرما لیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ٹھیک دوپہر کے وقت ہم لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مکان میں بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چہرے پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف لائے، یہ ایسا وقت تھا جس میں آپ تشریف نہیں لایا کرتے تھے، آپ اندر داخل ہوئے، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "تمہارے پاس جو لوگ ہیں انہیں ہٹادو۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ پر میرے باپ فدا ہوں، بس آپ کی اہلِ خانہ ہی ہیں۔" یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، ان سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح ہو چکا تھا

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اچھا! مجھ کو ہجرت کی اجازت ہو گئی ہے۔" 
عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے بارے میں کیا حکم ہے؟"
فرمایا: "تم ساتھ چلو گے۔"
عرض کیا: "میں نے اس غرض کے لئے دو اونٹنیاں تیار رکھی ہیں، ان میں سے جو پسند ہو وہ حاضر ہے۔"
فرمایا: "اچھا! مگر قیمت کے ساتھ۔"

واقدی نے اس اونٹنی کا نام قصواء اور ابنِ اسحاق نے جدعآ لکھا ہے، اس کے بعد ہجرت کا پروگرام طے کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے اور رات کی آمد کا انتظار کرنے لگے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی سے ایک راستوں کے ماہر شخص عبداللہ بن اُریقط کا اجرت پر انتظام کر رکھا تھا جو بنی الدّیل سے تعلق رکھتا تھا، اگرچہ مشرک تھا مگر قابل اعتماد تھا، اونٹنیاں اس کے حوالے کیں اور کہا کہ جس جگہ بلایا جائے، پہنچ جانا۔

ادھر قریش کے اکابر مجرمین نے اپنا سارا دن مکے کی پارلیمان دارالندوہ کی طے کردہ قرارداد کے نفاذ کی تیاری میں گزاری اور اس مقصد کے لیے ان اکابر مجرمین میں سے بارہ سردار منتخب کیے گئے، ابن سعد کے مطابق ان بارہ سرداروں کے نام یہ ہیں: 

1: ابو جہل، 2: حکم بن العاص، 3: عقبہ بن ابی معیط، 4: نضر بن حارث، 5: اُمیہ بن خلف، 6: حارث بن قیس بن الغیطلہ، 7: زمعہ بن الاسود، 8: طعیمہ بن عدی، 9: ابو لہب بن عبدالمطلب، 10: ابی بن خلف، 11: بنیّہ بن حجاج، 12: منبّہ بن حجاج

جب رات ہوئی تو حسب قرار داد یہ بارہ سرداران قریش حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مکان کے گرد جمع ہوگئے کہ آپ سوجائیں تو یہ لوگ آپ پر ٹوٹ پڑیں۔

محاصرہ کی اطلاع بذریعہ وحی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہو چکی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ شروع رات میں عشاء کی نماز کے بعد سوجاتے اور آدھی رات کے بعد گھر سے نکل کر مسجد حرام تشریف لاتے اور وہاں تہجد کی نماز ادا فرماتے، اس رات آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر پر سو جائیں اور آپ کی سبز حضرمی چادر اوڑھ لیں، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہی چادر اوڑھ کر سویا کرتے تھے) یہ بھی بتلادیا کہ تمہیں ان کے ہاتھوں کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔

ادھر رات جب ذرا تاریک ہوگئی اور ہر طرف سناٹا چھا گیا اور عام لوگ اپنی خوابگاہوں میں جاچکے تو مذکورہ بالا افراد نے خفیہ طور پر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا رخ کیا اور دروازے پر جمع ہوکر گھات میں بیٹھ گئے، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر سمجھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوئے ہوئے ہیں، اس لیے انتظار کرنے لگے کہ آپ اٹھیں اور باہر نکلیں تو یہ لوگ یکایک آپ پر ٹوٹ پڑیں اور مقررہ فیصلہ نافذ کرتے ہوئے آپ کو قتل کردیں۔

ان لوگوں کو پورا وثوق اور پختہ یقین تھا کہ ان کی یہ ناپاک سازش کامیاب ہوکر رہے گی، یہاں تک کہ ابوجہل نے بڑے متکبرانہ اور پُرغرور انداز میں مذاق واستہزاء کرتے ہوئے اپنے گھیرا ڈالنے والے ساتھیوں سے کہا: "محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتا ہے کہ اگر تم لوگ اس کے دین میں داخل ہوکر اس کی پیروی کرو گے تو عرب وعجم کے بادشاہ بن جاؤ گے، پھر مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے تو تمہارے لیے اردن کے باغات جیسی جنتیں ہوں گی اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ان کی طرف سے تمہارے اندر ذبح کے واقعات پیش آئیں گے، پھر تم مرنے کے بعد اٹھائے جاؤ گے اور تمہارے لیے آگ ہوگی، جس میں جلائے جاؤگے۔"

جب زیادہ رات ہو گئی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹھی بھر خاک پر سورہ یسٰں کی آیات "فاغشینٰھم فَھُم لا یبصرون" تک پڑھ کر دم کیں اور خاک ان کے سروں پر ڈالی، لیکن اللہ نے ان کی نگاہیں پکڑ لیں اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکے، ان کی آنکھوں پر پردے پڑ گئے اور آپ ان کے درمیان سے نکل گئے اور ان کو خبر نہ ہوئی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے گئے، ان کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی ماں تھیں، سفر کا سامان تیار کیا، دو تین دن کا کھانا ناشتہ دان میں رکھا، نطاق جس کو عورتیں اپنے کمر سے لپیٹتی تھیں، پھاڑ کر اس سے ناشتہ دان کا منہ باندھا، یہ وہ شرف تھا جس کی بناء پر آج تک ان کو "ذات النطاقین" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلے جانے کے بعد ایک شخص آیا اور اس نے پوچھا کہ تم کس کا انتظار کررہے ہو؟ انہوں نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا، اس نے کہا کہ وہ تمھارے سامنے سے تمھارے سروں پر خاک ڈال کر نکل گئے، ﷲ نے تم کو محروم کردیا، ان لوگوں نے کہا: "وﷲ! ہم نے نہیں دیکھا" اور وہ لوگ اپنے سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے، لیکن پھر دروازے کی دراز سے جھانک کر دیکھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نظر آئے، کہنے لگے: "اللہ کی قسم! یہ تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوئے پڑے ہیں، ان کے اوپر ان کی چادر موجود ہے۔" چنانچہ یہ لوگ صبح تک وہیں ڈٹے رہے، ادھر صبح ہوئی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بستر سے اٹھے تو مشرکین کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، بہرحال! قریش اپنے پلان کے نفاذ کی انتہائی تیاری کے باوجود فاش ناکامی سے دوچار ہوئے۔
==================> جاری ہے ۔۔۔ 
سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری

Post a Comment

0 Comments